تحریر محمد کامران تھند
شاید یہ 1993ء کے انتخابات تھے۔ پیر سید خورشید شاہ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔ اس صورتحال میں ملک غلام حیدر تھند کو قومی اور صوبائی اسمبلی، دونوں نشستوں پر مسلم لیگ کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔ ان دنوں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات الگ الگ دنوں میں منعقد ہوتے تھے۔ اب یہ تو یاد نہیں کہ پہلے کون سا انتخاب ہوا اور بعد میں کون سا، کیونکہ ہماری عمر بھی بمشکل دس برس کے قریب تھی۔الیکشن کی شام گھر میں خبر پہنچی کہ ملک غلام حیدر تھند انتخاب ہار گئے ہیں۔ گھر کا ماحول سوگوار تھا، سب لوگ افسردہ اور مایوس دکھائی دیتے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ رات کو والدہ نے بھائی فرید سے کہا تھا:
"تم لوگ کیوں کچھ نہیں کر رہے؟”
گویا گھر کے ہر فرد کو یہ شکست اپنی ذاتی شکست محسوس ہو رہی تھی۔
چند روز بعد دوسرا انتخاب ہوا، مگر اس میں بھی کامیابی نہ مل سکی۔ اس کے بعد لیہ میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔ لشکری والا احتجاج کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ لوگ یہاں اکٹھے ہوتے اور پھر ٹریکٹر ٹرالیوں میں سوار ہو کر شہر کی جانب روانہ ہوتے۔ چوبارہ روڈ پر احتجاج ہوتا، پولیس آتی، کارکنوں کو گرفتار کرتی، کچھ دیر بعد چھوڑ دیتی اور پھر دوبارہ پکڑ لیتی۔ یہ آنکھ مچولی کئی روز جاری رہی۔ان دنوں ہم مکتب سکول سے نکل کر گورنمنٹ ہائی سکول ملک والا کے پرائمری سیکشن میں پہنچ چکے تھے۔ سیاسی شعور کی ابتدائی جھلکیاں انہی دنوں ذہن میں نقش ہونا شروع ہوئیں۔اس زمانے میں حکومتیں شاذونادر ہی اپنی آئینی مدت پوری کر پاتی تھیں۔ اسمبلی ٹوٹنے کی خبریں عام ہوتیں اور نئے انتخابات کی گونج سنائی دیتی۔ گاؤں کی فضاؤں میں نعرے گونجتے:
"حیدر دے نعرے وجنڑ گے!”
"میاں دے نعرے وجنڑ گے!”
"آیا آیا شیر آیا”
"آیا آیا حیدر آیا”
پھر 1997ء کے انتخابات آئے۔ ملک غلام حیدر تھند قومی اسمبلی کی نشست پر امیدوار تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے غلام محمد سواگ مسلم لیگ کے ایک متحرک اور ابھرتے ہوئے کارکن کے طور پر سامنے آئے۔ ان دنوں بھائی شفیق کالج میں زیر تعلیم تھے اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) سے وابستہ تھے۔ ایم ایس ایف ہر اول دستے کا کردار ادا کرتی اور انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیتی تھی۔ملک غلام حیدر تھند اور غلام محمد سواگ نے لشکری والا میں بڑے اجتماعات کیے، اپنے منشور اور اعلانات پیش کیے اور عوامی رابطہ مہم چلائی۔ انتخابی نتائج آئے تو دونوں امیدوار کامیاب قرار پائے۔ ادھر چوبارہ کے حلقے سے مہر اللہ ڈیوایا تھند بھی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔اسی انتخابی مہم کے دوران ویرا اسٹیڈیم میں میاں نواز شریف کا ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسہ گاہ پہنچے اور اسٹیڈیم کا فضائی چکر بھی لگایا۔ عوام کا ایک جم غفیر وہاں موجود تھا۔ جلسے کے دوران کسی کارکن نے سپیکر پر نعرہ لگایا:
"اچلانہ دا کم نئیں، ڈیوایا وی ہنڑ دب ڈیسی!”
اس وقت چوبارہ کے حلقے میں مہر اعجاز اچلانہ، مہر اللہ ڈیوایا تھند کے مدمقابل تھے۔
ان دنوں لشکری والا میں ہمارا بیلارس ٹریکٹر سیاسی سرگرمیوں کا مستقل ساتھی بن چکا تھا۔ جلسہ ہو، ریلی ہو یا انتخابی اجتماع، لوگ اسی ٹریکٹر پر سوار ہو کر لیہ اور دیگر مقامات کا رخ کرتے۔ ہم بھی تقریباً ہر جلسے میں موجود ہوتے۔انتخابات میں کامیابی کے بعد ریلوے لائن کے ساتھ واقع گراؤنڈ میں مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ شام ہوتے ہی سیاسی کارکن غلام محمد سواگ کے ڈیرے یا وڈے ملک کی کوٹھی پر جمع ہو جاتے۔ انہی دنوں عابد انوار علوی، شکور سواگ اور رفیق جاوید جیسے سیاسی کارکنوں سے ملاقات اور شناسائی ہوئی۔مگر یہ خوشیوں کا دور زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔میں اس وقت گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول لیہ میں نہم جماعت کا طالب علم تھا جب ایک رات بھائی شفیق گھر آئے اور افسردہ لہجے میں بتایا:
"غلام محمد سواگ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ کسی نے انہیں گولی مار دی ہے۔”
یہ خبر پورے علاقے پر بجلی بن کر گری۔
بعد ازاں ضمنی انتخاب کا اعلان ہوا اور مسلم لیگ کی جانب سے ٹکٹ ملک عبدالشكور سواگ کو دیا گیا۔ انتخابی سرگرمیوں کے باعث لشکری والا مزید اہم سیاسی مرکز بن گیا۔ تقریباً روزانہ یہاں اجتماعات ہونے لگے۔ضمنی انتخاب کے دوران مہر مقبول تھند کے ڈیرے پر ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا جس سے اقبال خاکوانی، ذوالفقار کھوسہ، تہمینہ دولتانہ اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ ملک غلام حیدر تھند نے برادری اور اہلِ علاقہ سے عبدالشكور سواگ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ان دنوں صدر بازار، سبزی چوک، چوک قصاباں اور اندرونِ شہر مختلف محلوں میں ہونے والے جلسوں اور کارنر میٹنگز میں شرکت معمول بن چکی تھی۔بالآخر عبدالشكور سواگ کامیاب قرار پائے۔یہ دور مسلم لیگ اور ملک غلام حیدر تھند کے سیاسی عروج کا دور تھا۔ اسی زمانے میں انہیں پارلیمانی سیکرٹری ریلوے مقرر کیا گیا۔ اس حیثیت سے انہوں نے جنوبی پنجاب خصوصاً ضلع لیہ کے لیے کئی اہم ریلوے منصوبوں پر کام کیا۔ مہر ایکسپریس کے متعدد روٹس بحال کیے گئے اور ملتان سے راولپنڈی کے درمیان چلنے والی تیز رفتار ٹرین "بلال ایکسپریس” متعارف کرائی گئی۔ اسی طرح ملتان سے لاہور کے لیے بھی نئی ریل سروس شروع کی گئی۔شیڈول اس انداز سے ترتیب دیا گیا کہ راولپنڈی سے آنے والی بلال ایکسپریس کے ملتان پہنچنے کے فوراً بعد لاہور جانے والی ٹرین دستیاب ہوتی، یوں لیہ کے شہریوں کے لیے ریل کے ذریعے لاہور تک سفر نسبتاً آسان ہو گیا۔
انہی دنوں ہم نے بھی نوجوانی کی ایک مہم جوئی کی۔ میٹرک کے چند دوستوں کے ساتھ گھر والوں کو بتائے بغیر پہلے لیہ سے ملتان تک ٹرین کا سفر کیا اور پھر خوشحال ایکسپریس کے ذریعے کراچی جا پہنچے۔ سندھ کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اہلکاروں نے ہمیں روک لیا، مگر جب ہم نے اپنا تعلق تھند خاندان سے بتایا اور ملک غلام حیدر تھند کا حوالہ دیا تو انہوں نے ہمیں جانے دیا۔ہم کراچی ریلوے اسٹیشن پہنچے، شہر دیکھا اور پھر اگلی ٹرین سے واپس لیہ روانہ ہو گئے۔ اس پورے سفر میں چار دن سے زیادہ وقت ایک ہی لباس میں گزارا، مگر آج بھی وہ سفر زندگی کی حسین ترین یادوں میں شمار ہوتا ہے۔
ملک غلام حیدر تھند اکثر بتایا کرتے تھے کہ بلال ایکسپریس کے آغاز پر بعض حلقوں نے اعتراض کیا کہ وہ اپنے علاقے کو غیر معمولی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس اعتراض کا جواب انہوں نے عملی طور پر دیا اور فوری طور پر ملتان۔لاہور اور راولپنڈی۔لاہور روٹس پر نئی ٹرینوں کے اجرا کی منظوری حاصل کر لی۔ چند ہی دنوں میں مختلف ڈبوں اور انجنوں کو یکجا کرکے نئی ریل سروسز کا افتتاح کر دیا گیا، جس سے تمام اعتراضات دم توڑ گئے۔وہ یہ بھی بتایا کرتے تھے کہ جنوبی پنجاب کے لیے ایک اور اہم تیز رفتار ٹرین کا منصوبہ تقریباً مکمل ہو چکا تھا، مگر 1999ء کے مارشل لا کے باعث یہ خواب ادھورا رہ گیا۔اسی دور میں ٹیل انڈس روڈ سے لشکری والا تک سڑک تعمیر ہوئی، جبکہ کھوکھا اڈا سے دربار شاہ مستانہ تک سڑک کے منصوبے پر بھی کام شروع ہوا۔
یہ میرا لیڈر تھا، ملک غلام حیدر تھند۔
وہ سیاست دان ضرور تھا، مگر اس کی سیاست کا مرکز ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی فلاح تھی۔ اسی لیے آج بھی اس کے کیے ہوئے کام، اس کے نعرے، اس کے جلسے، اس کی جدوجہد اور اس سے جڑی بے شمار یادیں ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔
وڈا ملک، تیریاں یاداں
ساڈے دلاں وچ زندہ ہیں ۔


