• About us
  • Contact Us
  • Home
  • Privacy Policy
Layyah Media House
جمعہ ، 24 جولائی ، 2026
  • صفحہ اول
  • خبریں
    • علاقائی
    • قومی
    • بین الاقوامی
    • کھیل
    • تعلیم
    • ذراعت و لائیوسٹاک
  • کتب نورمحمد تھند
    • تاریخ
    • اولیا
  • محمد کامران تھند
    • جستجو زندگی
    • صحافت کا سفر
    • درپردہ گونج
  • کالم
    • ریاض احمد جھکڑ ۔۔۔ رائے عامہ
    • اظہر عباس بھٹی ۔۔۔ سندیسہ
    • عبدالطیف قمر
  • ویڈیوز
    • مقامی پیغام
    • وی لاگز
    • انٹرویو
  • کاروبار
    • پراپرٹی
  • ادبی تقریبات
No Result
View All Result
Layyah Media House



وڈا ملک تیریاں یاداں۔ ۔۔ قسط 3

Malik Ghulam Haider Thind

Muhammad Kamran Thind by Muhammad Kamran Thind
جولائی 24, 2026
in درپردہ گونج, کالم, محمد کامران تھند
A A
0
وڈا ملک، تیریاں یاداں    ..

تحریر: محمد کامران تھند

ملک غلام حیدر تھند کے ترقیاتی کاموں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ شاید میں ان سب کا احاطہ نہ کر سکوں۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی ایسا منصوبہ سامنے آتا رہا جس کا تعلق عوامی فلاح اور علاقے کی ترقی سے تھا۔1999ء میں ہم میٹرک کا امتحان دے چکے تھے اور نتیجے کے منتظر تھے کہ 12 اکتوبر کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا۔ منتخب حکومتیں برطرف کر دی گئیں اور ملک بھر کی سیاسی فضا یکسر تبدیل ہو گئی۔ انہی دنوں ملک غلام حیدر تھند کو ان کی کوٹھی پر نظر بند کر دیا گیا۔ خاندان کے افراد اور کارکنوں میں بے چینی پائی جاتی تھی اور سیاسی سرگرمیاں عملاً ماند پڑ گئی تھیں۔چند ہفتوں بعد نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہوا اور پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا اعلان ہوا۔ ایک شام لشکری والا میں ملک غلام حیدر تھند اور خاندان کے دیگر افراد اکٹھے ہوئے۔ ان دنوں میرے والد، مہر اللہ وسایا، فالج کے مرض میں مبتلا تھے۔ ہم انہیں بیٹھک تک لے آئے۔ مجھے آج بھی ان کے الفاظ یاد ہیں۔ انہوں نے ملک صاحب سے مخاطب ہو کر کہا:”کیوں بالاں کوں کٹویندا ہیں، پریشان تھیسوں، بس انہاں نال ہی رل ونج۔”یہ ایک بزرگ کی شفقت بھری نصیحت تھی جو سیاسی ہنگاموں سے زیادہ لوگوں کے سکون کو اہم سمجھتا تھا۔اسی دوران ہم ایف ایس سی پری کلاسز کے لیے گورنمنٹ کالج لیہ میں داخل ہو چکے تھے۔ وہاں رفیق جاوید اور بھائی شفیق تھند کے ساتھ ملاقات رہتی تھی۔ ایک دن رفیق جاوید نے مجھے ایم ایس ایف کے چند سٹکر دیے اور ایک سٹکر میری سائیکل جبکہ دوسرا میری جیب پر لگا دیا۔ یوں ہم بھی باقاعدہ طور پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ بن گئے۔جون جولائی میں میٹرک کا نتیجہ آیا تو میں پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ لیہ میں مکینیکل ڈپلومہ کے لیے داخل ہو گیا۔ وہاں پی ایس ایف کا کافی اثر و رسوخ تھا، مگر رفیق جاوید نے مجھے ٹیکنیکل کالج ایم ایس ایف کا صدر نامزد کر دیا۔ نوجوانی کا جوش تھا اور سیاست سے وابستگی پہلے ہی دل میں گھر کر چکی تھی۔انہی دنوں لیہ میں مسلم لیگ کا ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا۔ ہم نے کالج کے طلبہ کو ساتھ لیا اور میاں بہادر موڑ پر قافلے کا استقبال کیا۔ اس قافلے کی قیادت سردار ذوالفقار علی کھوسہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں ریلوے لائن کے قریب جلسہ منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔کچھ ہی عرصے بعد بلدیاتی انتخابات کا آغاز ہو گیا۔ بڑے بھائی غلام فرید تھند نے کونسلر کا انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا۔ 31 دسمبر کو پولنگ تھی۔ اس دن شدید بارش اور کڑاکے کی سردی تھی، مگر انتخابی جوش موسم پر بھاری تھا۔ہم سارا دن ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے میں مصروف رہے۔ شام تک اپنے چک اور قریبی دیہات سے نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے تھے اور ابتدائی اطلاعات حوصلہ افزا تھیں، مگر پوری یونین کونسل کا نتیجہ جمع نہ ہو سکا۔ اس زمانے میں موبائل فون نہیں ہوتے تھے، اس لیے حتمی نتائج جاننے کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا۔اگلے روز تقریباً گیارہ بارہ بجے خبر ملی کہ بھائی غلام فرید تھند کامیاب ہو چکے ہیں۔ یہ خوشی پورے خاندان کے لیے ایک یادگار لمحہ تھی۔کچھ دن بعد ملک غلام حیدر تھند لشکری والا تشریف لائے اور اپنے سیاسی ساتھیوں سے حمایت کی درخواست کی۔ بھائیوں نے ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں سردار شہاب الدین سیہڑ ضلع ناظم جبکہ مہر فضل حسین سمرا نائب ناظم منتخب ہوئے۔ان دنوں میں اکثر بھائی غلام فرید کے لیے کھانا اور کپڑے لے کر گورنمنٹ ہائی سکول 124 یا ریلوے لائن کے قریب واقع سیہڑ ہاؤس جاتا تھا، جہاں منتخب کونسلرز اور سیاسی کارکنوں کی رہائش اور مہمان داری کا خصوصی انتظام کیا جاتا تھا۔ اس دور میں بلدیاتی سیاست کا رنگ ہی کچھ اور تھا۔ سیاسی کارکن کئی کئی دن اپنے امیدواروں کے ساتھ رہتے اور انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کرتے تھے۔اسی دور میں ہمارے علاقے میں سولنگ، پلیوں اور دیہی رابطہ سڑکوں کے متعدد منصوبے مکمل ہوئے۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ سومرے والا سکول کی عمارت ازسرِ نو تعمیر ہوئی اور علاقے کے تعلیمی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ترقیاتی کام صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہتے تھے بلکہ زمین پر ان کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ گاؤں کی گلیاں، سڑکیں، سکول اور پل آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔وقت گزرتا گیا، سیاسی حالات بدلتے گئے، حکومتیں آئیں اور گئیں، مگر وڈے ملک کے ساتھ جڑی یادیں آج بھی ذہن کے دریچوں میں محفوظ ہیں۔

وڈا ملک، تیریاں یاداں

اج بھ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں ۔

See translation

ShareTweetSend
Please login to join discussion

تازہ ترین

درپردہ گونج

وڈا ملک تیریاں یاداں۔ ۔۔ قسط 3

جولائی 24, 2026
کالم

مہر نور محمد تھند: محققِ تھل، مورخِ لیہ اور علم و آگہی کا روشن استعارہ۔

جون 21, 2026
خبریں

زہریلا سانپ شہری کی گائے کا دودھ پی کر رفو چکر

جون 21, 2026
درپردہ گونج

وڈا ملک تیریاں یاداں ۔۔۔۔ قسط 2

جون 21, 2026

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • خبریں
    • علاقائی
    • قومی
    • بین الاقوامی
    • کھیل
    • تعلیم
    • ذراعت و لائیوسٹاک
  • کتب نورمحمد تھند
    • تاریخ
    • اولیا
  • محمد کامران تھند
    • جستجو زندگی
    • صحافت کا سفر
    • درپردہ گونج
  • کالم
    • ریاض احمد جھکڑ ۔۔۔ رائے عامہ
    • اظہر عباس بھٹی ۔۔۔ سندیسہ
    • عبدالطیف قمر
  • ویڈیوز
    • مقامی پیغام
    • وی لاگز
    • انٹرویو
  • کاروبار
    • پراپرٹی
  • ادبی تقریبات

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025