تحریر۔۔۔۔۔خالد بلال میتلا
قوموں، علاقوں اور تہذیبوں کی شناخت صرف ان کے جغرافیے سے نہیں ہوتی بلکہ ان شخصیات سے بھی ہوتی ہے جو اپنے علم، تحقیق اور کردار کے ذریعے اپنے عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایسی شخصیات وقت کے ساتھ محض افراد نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک فکری ورثے کی علامت بن جاتی ہیں۔ ضلع لیہ اور وسیع خطۂ تھل کے لیے مہر نور محمد تھند ایسی ہی ایک شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق، تدریس اور تاریخ کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔

تھل کی سرزمین صدیوں سے اپنی منفرد تہذیب، ثقافت، روایات اور جغرافیائی خصوصیات کے باعث پہچانی جاتی ہے۔ تاہم ایک طویل عرصے تک اس خطے کی تاریخ اور تمدنی ورثہ باقاعدہ تحقیقی دستاویزات کی صورت میں محفوظ نہیں ہو سکا تھا۔ ایسے میں مہر نور محمد تھند نے اس ذمہ داری کو محسوس کیا اور اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال اس علاقے کی تاریخ، ثقافت، شخصیات، روحانی مراکز اور سماجی ارتقا کو قلم بند کرنے میں صرف کر دیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج انہیں محققِ تھل اور مورخِ لیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ان کا تعلق تھل کے ایک چھوٹے سے گاؤں لشکری والا سے تھا، جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی محدود تھیں۔ لیکن ان کے والد مہر اللہ وسایا تھند اور والدہ محترمہ کی یہ خواہش تھی کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں اور علم کی دولت سے اپنا مستقبل سنواریں۔ اس دور میں جب دیہی علاقوں میں تعلیم کو وہ اہمیت حاصل نہیں تھی جو آج ہے، والدین کا یہ خواب غیر معمولی حیثیت رکھتا تھا۔ انہی دعاؤں اور تربیت کے اثرات تھے کہ مہر نور محمد تھند نے علم کے میدان میں وہ مقام حاصل کیا جو آج بھی باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اپنی علمی پیاس کو بجھانے کے لیے مسلسل مطالعہ، تحقیق اور مشاہدے کا راستہ اختیار کیا۔ وہ صرف کتابیں پڑھنے والے انسان نہیں تھے بلکہ کتابوں کے پیچھے چھپی تاریخ، تہذیب اور معاشرتی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی جستجو آگے چل کر ان کی تحقیقی اور تصنیفی زندگی کی بنیاد بنی۔
تاریخ نویسی ایک نہایت مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے نہ صرف وسیع مطالعہ درکار ہوتا ہے بلکہ مختلف ذرائع سے معلومات جمع کرنا، ان کی جانچ پڑتال کرنا اور انہیں مستند انداز میں مرتب کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ مہر نور محمد تھند نے یہ تمام مراحل انتہائی محنت، دیانت داری اور تحقیق پسندی کے ساتھ طے کیے۔ انہوں نے تھل اور لیہ کے مختلف علاقوں کا سفر کیا، بزرگوں سے ملاقاتیں کیں، تاریخی روایات کو قلم بند کیا اور ایسی معلومات کو محفوظ کیا جو شاید ان کے بغیر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتیں۔
ان کی تصنیفی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ "اولیائے لیہ” ان کی ایسی تصنیف ہے جس نے ضلع لیہ کے روحانی ورثے کو محفوظ کیا، جبکہ "تاریخ لیہ” اس خطے کی تاریخی، سماجی اور ثقافتی زندگی کا ایک جامع ریکارڈ بن کر سامنے آئی۔ اس کے علاوہ "مسلم لیگ کے سو سال”، "اولیائے بھکر”، "تاریخ بھکر”، "اولیائے کروڑ” اور "ماں” جیسی کتب ان کے وسیع مطالعے اور گہری تحقیق کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ان کی تحریروں کا ایک اہم وصف یہ تھا کہ وہ محض واقعات بیان نہیں کرتے تھے بلکہ ان واقعات کے پس منظر، اثرات اور تاریخی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابیں عام قارئین کے ساتھ ساتھ محققین اور طلبہ کے لیے بھی اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی تصانیف نے نہ صرف مقامی تاریخ کو محفوظ کیا بلکہ نئی نسل کو اپنے علاقے کی شناخت اور ورثے سے بھی روشناس کروایا۔
صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ 1992 میں "اخبار لیہ” کا اجرا ایک جرات مندانہ اور دور اندیش اقدام تھا۔ اس اخبار نے مقامی مسائل، ادبی سرگرمیوں، سماجی موضوعات اور عوامی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ درحقیقت یہ صرف ایک اخبار نہیں تھا بلکہ مقامی شعور، علمی بیداری اور علاقائی شناخت کے فروغ کا ایک ذریعہ تھا۔
ان کی علمی اور تحقیقی خدمات کو سرکاری سطح پر بھی سراہا گیا۔ خصوصاً "مسلم لیگ کے سو سال” جیسی تحقیقی تصنیف پر انہیں اعزازی سند اور نقد انعام سے نوازا گیا، جو ان کی علمی کاوشوں کا باقاعدہ اعتراف تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز عوام کی محبت، اہلِ علم کی قدر دانی اور قارئین کا اعتماد تھا۔
تدریس ان کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو تھا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز لیہ شوگر ملز سے کیا، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کی اصل شناخت ایک معلم کی حیثیت سے قائم ہوگی۔

چنانچہ انہوں نے تدریس کا شعبہ اختیار کیا اور مختلف تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیں۔ گورنمنٹ ہائی سکول ہیڈ محبوب اور بعد ازاں گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول لیہ میں انہوں نے ہزاروں طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کی۔
وہ صرف نصابی علم منتقل کرنے والے استاد نہیں تھے بلکہ اپنے شاگردوں میں مطالعے کا شوق، تحقیق کا جذبہ اور اپنی مٹی سے محبت پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بے شمار شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اپنے استاد کو عقیدت و احترام سے یاد کرتے ہیں۔
ان کی زندگی کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو ان کا ذاتی کتب خانہ تھا۔ انہوں نے برسوں کی محنت سے ہزاروں کتابوں پر مشتمل ایک علمی خزانہ جمع کیا۔ یہ لائبریری دراصل ان کے علم دوستی کے جذبے کا عملی اظہار تھی۔ ان کے لیے کتاب محض مطالعے کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبوں، قوموں اور ادوار کے درمیان ایک مضبوط پل تھی۔
ان کی اولاد بھی ان کے علمی اور اخلاقی ورثے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دینے والے ان کے صاحبزادگان اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے صرف کتابیں ہی نہیں لکھیں بلکہ ایک ایسی نسل بھی تیار کی جو علم، خدمت اور کردار کی اقدار کو اہمیت دیتی ہے۔
مہر نور محمد تھند کی علمی اور فکری تربیت کے اثرات صرف ان کی تصانیف اور شاگردوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے خاندان کے افراد نے بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
ان کے چھوٹے بھائی استاد الاساتذہ اور میرے استاد محترم پروفیسر مہر حفیظ اللہ تھند علمی حلقوں میں ایک معتبر اور معروف نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج لیہ کے وائس پرنسپل اور شعبۂ کیمسٹری کے سربراہ (HOD Chemistry) کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ تدریس، علمی سرگرمیوں اور تعلیمی قیادت کے میدان میں ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ لیہ کے علمی، ادبی اور تعلیمی حلقوں میں انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے ہزاروں شاگرد آج ملک کے مختلف اداروں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان کی تدریسی صلاحیتوں اور علمی اثرات کا واضح ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (PPLA) کے ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے دو مرتبہ ڈویژنل جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ علمی، سماجی اور تنظیمی میدان میں ان کی خدمات انہیں ایک باوقار اور مؤثر شخصیت کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔
ان کے ایک اور چھوٹے بھائی مہر شفیق تھند لیہ کے علمی میدان میں ایک نامور علم دوست شخصیت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے صدر اور ایک متحرک رہنما کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں. مہر رمضان تھند جو کہ نہایت قابل ، مستعد نامی گرامی اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر ہیں یہ بھی آپ کے بھائی ہونے کے ساتھ آپ کی علم و بصیرت کا عملی نمونہ ہیں ۔
اسی طرح ان کے سب سے چھوٹے بھائی مہر کامران تھند نے صحافت اور کالم نگاری کے میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ قومی سطح پر ایک متحرک صحافی، صاحبِ قلم کالم نگار اور رائے ساز شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں مختلف قومی اور علاقائی موضوعات پر گہری بصیرت اور فکری پختگی کی عکاس ہیں۔ صحافت کے شعبے میں ان کا نام سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے حوالے سے احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
12 مارچ 2015 کو جب مہر نور محمد تھند اس دنیا سے رخصت ہوئے تو بظاہر ایک فرد کا انتقال ہوا، لیکن حقیقت میں تھل کی علمی، ادبی اور تاریخی دنیا ایک قیمتی اثاثے سے محروم ہوگئی۔ تاہم ایسی شخصیات اپنے جسمانی وجود سے زیادہ اپنے افکار، خدمات اور علمی سرمایہ کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔ آج ان کی تصانیف، ان کا تحقیقی کام، ان کا قائم کردہ اخبار، ان کی ذاتی لائبریری اور ان کے شاگرد ان کی زندگی کے روشن آثار ہیں۔
مہر نور محمد تھند نے ثابت کیا کہ محدود وسائل اور دیہی ماحول کسی شخص کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اگر انسان کے اندر علم کا شوق، تحقیق کا جذبہ اور اپنی دھرتی سے محبت موجود ہو تو وہ اپنی شناخت خود تخلیق کر لیتا ہے۔ مہر نور محمد تھند نے یہی کیا۔ انہوں نے تھل کی مٹی کو اپنی پہچان بنایا، اس کی تاریخ کو محفوظ کیا اور اپنے قلم کے ذریعے ایک ایسا علمی ورثہ چھوڑا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا.

