دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں بعض ایسی عادات بھی متعارف کروائی ہیں جو بظاہر جدید اور دلکش دکھائی دیتی ہیں مگر اندر ہی اندر نوجوان نسل کو تباہی کی طرف لے جارہی ہیں۔ ای سگریٹ، ویپنگ اور ڈیجیٹل وائپس انہی خطرناک رجحانات میں شامل ہیں۔ چند سال پہلے تک یہ چیزیں صرف بڑے شہروں یا بیرون ممالک تک محدود سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب ان کا استعمال چھوٹے شہروں اور تعلیمی اداروں تک بھی پہنچ چکا ہے، جو معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ بنتا جارہا ہے۔

ضلع Layyah کے مختلف بڑے تعلیمی اداروں میں بھی ای سگریٹ اور ویپس کے استعمال سے متعلق تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس حوالے سے متعدد سرکاری و غیر سرکاری شخصیات، ماہرینِ تعلیم اور والدین نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل تیزی سے اس جدید نشے کی طرف مائل ہورہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا، دوستوں کا دباؤ اور فلیورڈ ویپس کی آسان دستیابی ہے۔
ای سگریٹ دراصل ایک الیکٹرانک ڈیوائس ہے جو نکوٹین ملا مائع گرم کرکے بخارات پیدا کرتا ہے۔ استعمال کرنے والے اسے عام سگریٹ کی نسبت کم نقصان دہ سمجھتے ہیں، مگر طبی ماہرین اس تاثر کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان بخارات میں نکوٹین کے علاوہ کئی کیمیکلز اور زہریلے اجزا شامل ہوسکتے ہیں جو پھیپھڑوں، دل اور دماغ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر کم عمر طلبہ میں یہ عادت ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کرسکتی ہے۔
اس سلسلے میں سی ای او صحت لیہ ڈاکٹر شاہد ریاض سے گفتگو ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ نشہ کوئی بھی ہو، وہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ای سگریٹ اور ویپس کی فروخت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل کو اس خطرناک رجحان سے محفوظ رکھا جاسکے۔
اسی طرح ماہر تعلیم مہر شفیق تھند نے اس کو خطرناک نشہ قرار دیا کہ یہ اب مختلف تعلیمی اداروں میں ایک فیشن کے طور پر سرایت کرتا جا رہا ہے اس کو روکنے میں تعلیمی اداروں کے سربراہان و پرنسپلز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کہ مستقبل کے نونہالوں کو اس لت سے بچایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ویپنگ کو اکثر “فیشن” یا “اسٹیٹس سمبل” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ نکوٹین کی لت کی ایک جدید شکل ہے۔ نوجوان ابتدا میں تجسس یا دوستوں کی دیکھا دیکھی اس کا استعمال شروع کرتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہ عادت انحصار میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ کئی والدین اس لیے بھی لاعلم رہتے ہیں کیونکہ ویپس سے عام سگریٹ جیسی بو نہیں آتی اور یہ چھوٹے جدید گیجٹس کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات مل کر اس مسئلے کا ادراک کریں۔ والدین بچوں کے رویوں پر توجہ دیں، اساتذہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات چلائیں اور انتظامیہ اس کی فروخت و استعمال کے خلاف واضح پالیسی اختیار کرے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش زہر نئی نسل کی صحت، تعلیم اور مستقبل پر گہرے منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو وقتی فیشن کے بجائے صحت مند سرگرمیوں، تعلیم، کھیل اور مثبت سوچ کی طرف راغب کیا جائے، کیونکہ ایک باشعور اور صحت مند نوجوان ہی کسی بھی معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتا ہے۔


