ایک استاد، ایک معلم — سانحے، احساس اور انصاف کی ضرورت
تحریر: مہر محمد کامران تھند، لیہ
ڈی جی خان میں پیش آنے والے المناک واقعے نے والدین سمیت پورے وسیب کو غم میں مبتلا کر دیا ہے، اور ہونا بھی چاہیے، کیونکہ اس سانحے میں کئی ننھے پھول وقت سے پہلے مرجھا گئے۔ کئی گھروں کی روشنیاں بجھ گئیں، کئی خواب ادھورے رہ گئے۔ والدین کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کوئی سوچی سمجھی سازش نہیں تھی، نہ ہی بچوں سے دشمنی کا کوئی عمل تھا۔ یہ ایک حادثہ تھا، ایک ایسا سانحہ جو کسی بھی جگہ پیش آ سکتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جہاں معصوم بچوں، اساتذہ اور سکیورٹی اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس سانحے میں ایک وائس پرنسپل نے بچوں کو بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی، مگر دہشت گردوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔اتنے بڑے سانحے کے باوجود ہم نے تعلیم کے چراغ بجھنے نہیں دیے۔ آرمی پبلک سکول دوبارہ کھلا، کیونکہ قوم جانتی تھی کہ تعلیمی ادارے بند کر دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اندھیرے مزید بڑھتے ہیں۔آج اگر اپنے وسیب میں ایک تعلیمی ادارے میں حادثہ پیش آیا ہے تو ہم میں سے کچھ لوگ خاموش ہیں اور کچھ صرف سزا اور انتقام کی بات کر رہے ہیں۔ سڑکوں پر روز حادثات ہوتے ہیں۔ کبھی سکول رکشہ ٹرک سے ٹکرا جاتا ہے، کبھی ٹرالر معصوم بچوں کو روند دیتا ہے۔ چوک سرور شہید میں بھی ایک حادثے میں چھ بچے جان کی بازی ہار گئے تھے۔ یقیناً ہر حادثے میں ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے، مگر ہر حادثے کو نفرت اور تباہی کا جواز بنا دینا دانشمندی نہیں۔
ڈی جی خان کا وہ استاد، وہ معلم، جس کے تعلیمی اداروں میں ہزاروں طلبہ اپنا مستقبل سنوار رہے ہیں، جہاں سینکڑوں اساتذہ اور ملازمین برسرِ روزگار ہیں، جہاں کئی گھروں کے چولہے جل رہے ہیں، کیا ایک حادثے کے بعد پورے ادارے کو بند کر دینا مسئلے کا حل ہے؟ کیا ایک استاد کو ہتھکڑیاں لگا کر سرِعام ذلیل کرنا انصاف ہے یا محض جذباتی ردِعمل؟ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان اساتذہ اور ملازمین کا کیا بنے گا جنہیں ہر ماہ تنخواہ ملتی تھی، جو اپنے گھروں کا خرچ چلاتے تھے، بجلی کے بل ادا کرتے تھے، بچوں کی فیسیں دیتے تھے، اور روز اس امید پر سکول آتے تھے کہ یہی ادارہ ان کی روزی کا وسیلہ ہے۔اگر پشاور میں ڈیڑھ سو سے زائد شہید بچوں کی یادوں سے وابستہ آرمی پبلک سکول دوبارہ کھل سکتا ہے تو پھر ڈی جی خان کا لٹل سکالرز سکول کیوں نہیں کھل سکتا؟ اگر ہم روزانہ سڑکوں پر حادثات میں جان گنوانے والوں کو تقدیر اور اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں تو ایک استاد، ایک معلم، جس نے ہزاروں طلبہ کو روشنی کی راہ دکھائی، اس کے لیے ہمارے دلوں میں معافی اور ہمدردی کیوں نہیں؟
ڈی جی خان کے عوام کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ایک استاد صرف ایک فرد نہیں ہوتا، بلکہ وہ نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ اگر کہیں غلطی یا غفلت ہوئی ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے، مگر نفرت اور انتقام کے بجائے انصاف، توازن اور انسانیت کو مقدم رکھا جائے۔ کیونکہ چراغ بجھانے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا، بلکہ مزید بڑھ جاتا ہے

