لیہ اور گردونواح میں ایل پی جی کے گھریلو سلنڈرز کی قیمتوں میں حالیہ دنوں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں دکانداروں نے سرکاری نرخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر لیے۔ سرکاری قیمت تقریباً 3500 روپے ہونے کے باوجود گھریلو سلنڈر 5500 سے 6500 روپے تک فروخت ہوتا رہا، جس کے باعث شہریوں کو لاکھوں روپے کے اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت اور گیس کی محدود دستیابی کے باعث عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار تھے، لیکن ایل پی جی ڈیلرز نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خوری کی انتہا کر دی۔ سوال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے درجنوں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ ادارے اس دوران کہاں تھے؟
ضلعی انتظامیہ اکثر مختلف کارروائیوں اور دوروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرتی نظر آتی ہے، مگر عوامی مفاد سے جڑے اس اہم مسئلے پر خاموشی اختیار کیے رکھی گئی۔ اگر سرکاری نرخ موجود تھے تو ان پر عملدرآمد کیوں نہ کروایا گیا؟ اگر ناجائز منافع خوری جاری تھی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی گئی؟شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی سلنڈرز کی فروخت کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے، ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوام سے وصول کی گئی اضافی رقم کا بھی حساب لیا جائے۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر پرائس کنٹرول کا نظام صرف کاغذوں اور تصویری کارروائیوں تک محدود ہے تو پھر مہنگائی کے ستائے ہوئے شہری کس سے انصاف کی توقع رکھیں؟

