• About us
  • Contact Us
  • Home
  • Privacy Policy
Layyah Media House
جمعہ ، 9 جنوری ، 2026
  • صفحہ اول
  • خبریں
    • علاقائی
    • قومی
    • بین الاقوامی
    • کھیل
    • تعلیم
    • ذراعت و لائیوسٹاک
  • کتب نورمحمد تھند
    • تاریخ
    • اولیا
  • محمد کامران تھند
    • جستجو زندگی
    • صحافت کا سفر
    • درپردہ گونج
  • کالم
    • ریاض احمد جھکڑ ۔۔۔ رائے عامہ
    • اظہر عباس بھٹی ۔۔۔ سندیسہ
    • عبدالطیف قمر
  • ویڈیوز
    • مقامی پیغام
    • وی لاگز
    • انٹرویو
  • کاروبار
    • پراپرٹی
  • ادبی تقریبات
No Result
View All Result
Layyah Media House



سرائیکی وسیب کی جامعات،وزٹنگ فیکلیٹیز:ایک نظر ادھر بھی —- تحریر:پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین

column

Muhammad Kamran Thind by Muhammad Kamran Thind
دسمبر 10, 2025
in تعلیم, کالم
A A
0
"رستہ رستہ اوجھڑ” کی تقریبِ رونمائی.استاد الشعرا امان اللہ کاظم مرحوم کے شعری سفر کو خراجِ تحسین

Prof Muzamil Hussain


تعلیم کے ساتھ جتنا کھلواڑ پاکستان میں ھوا ھے شاید اتنا کھلواڑ تھرڈ ورڈ کی کسی اور ریاست میں نہ ھوا ھو۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں سب سے معتبر جامعہ”پنجاب یونیورسٹی لاھور”کو لمبے عرصے تک تسلیم کیا جاتا رہا۔شعبہ اردو میں 1955 تک صرف چار پی ڈی ایز نے اپنی اپنی ڈگریاں لیں،چوتھی ڈگری سرائیکی وسیب کے نامور ماہر لسانیات ڈاکٹر مہر عبدالحق کے حصے میں ائی۔اردو کے علاوہ دیگر شعبوں کی تحقیق کے میدان میں بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا صورت حال نہ تھی۔پے در پے مارشل لاوں نے بوجوہ شعور کی سطح کو بلند نہ ھونے دیا،ریاستی ادارے روبہ زوال ھوتے ھوتے شرمناک حد تک ا پہنچے ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر میں کچھ بہتر جامعات کا قیام عمل میں ایا اور انھوں نے نتائج بھی دیے وہاں بڑی حد تک کوالٹی ایجوکیشن کے بعض پہلو بھی سامنے آئے(مثال لمز لاھور)لیکن ہائر ایجوکیشن کا شعبہ تاجروں کے ہتھے چڑھ گیا اور ھمارا کلچر تباہ ھو کر رہ گیا۔تعلیم ایک خاص طرح کی لطافت مانگتی ھے جس کے لیے ماہرانہ کمٹ منٹ لازم ھوتی ھے لیکن کاروباری اذہان اس صلاحیت سے عاری ھوتے ھیں۔اس طرح بندر کے ہاتھ میں استرا دینے کے مصداق سارا تعلیمی ماحول درھم برھم ھو کر رہ گیا ھے۔پبلک سیکٹر کی جامعات کو سفارش،سیاسی مداخلت،قیادت کی نالائقی اور نااہلی نے مار مکایا ھے۔فنڈز کی کمی،بے جا فارمیلیٹیز،انتہا پسندی اور شدت پسندی نے پراگریسو تعلیمی ماحول کو کمپرومائز کر دیا ھے۔اس صورت حال کی بدترین مثال ھمیں جنوبی اور لوئر پنجاب(سرائیکی وسیب)میں نظر اتی ھے۔

File photo

یہاں پر اکثر جامعات کا قیام سیاسی ضرورتوں کے تحت عمل میں ایا ھے۔نیم خواندہ ممبران اسمبلی کی فرمائشوں پر بنائی گئی کئی جامعات کی ادھوری عمارتیں،ناکافی فنڈز،فیکلٹی کی حوصلہ شکن کمی،نااہل بیوروکریسی کی دھونس اور اس کے لامتناعی اختیارات نے جامعات کی قیادتوں کو ہراعتبار سے بے بس بنا رکھا ھے۔ایچ ای سی کی جکڑ بندیاں اس کے سوا ھیں۔موجودہ پنجاب کی حکومت نے صدق دل سے انقلابی اقدامات لینے کی کوشش کی اور پنجاب کی جامعات کے سربراہوں کی تعیناتی میں شفافیت کی سعی بھی کی مگر ایچ ای ڈی اور ایچ ای سی کی نزاکتوں اور ناروا قسموں کی جکڑ بندیوں سے جامعات کو ازاد نہ کرا سکی۔یہ ازادی بطور خاص سرائیکی وسیب کی نوزائیدہ جامعات کے لیے بہت ضروری تھی۔یہاں بھی وھی انتظامی فارمولے لگائے گئے جو اسٹبلشڈ جامعات پر لاگو ھوتے ھیں۔ھم اپنے گزشتہ کسی کالم میں لکھ ھیں کہ ان بڑے اداروں کی قیادت کے لیے سکالرز کا ھونا ضروری ھے یعنی ایسی قیادت جس کے پاس ایک ویژن اور ایک ول ھو،افسوس کہ سوائے ایک دو(جیسے جامعہ تھل کے سربراہ جناب ڈاکٹر سعید بزدار ھیں)کے کوئی وژنری وی سی کی مثال دکھائی نہیں دیتی۔اس وقت جامعات میں فنڈز کے فقدان کے ساتھ ساتھ فیکلٹی کی کمی بڑا گھمبیر ایشو ھے۔بطور خاص سرائیکی وسیب کی جامعات کو فیکلٹی کی کمی کا مسلہ درپیش ھے۔یہاں کی تمام جامعات "وزیٹنگ فیکلٹیز”پر چل رہی ھیں۔مستقل بنیادوں پر تعینات اساتذہ نہ ھونے کے برابر ھیں،مستقل اساتذہ کی بھرتی کے لیے اتنے جھنجٹ اور فارمیلیٹیز ھیں کہ بار بار اشتہار دیے جاتے ہیں مگر ٹیسٹ اور انٹرویوز کی نوبت اتی ھی نہیں۔امیدوار بے چارہ عکسی نقول اور بھرتی فیسیں جمع کرا کرا کر تہی دست ھو جاتا ھے مشتہر کی گئیں اسامیاں ختم کر دی جاتی ہیں،اس عمل میں جامعات کی قیادتوں کا قصور نہیں بلکہ ایچ ای ڈی اور ایچ ای سی کی پیدا کردہ رکاوٹیں ھیں جو کسی کام کو سموتھ ھونے ھی نہیں دیتیں۔جب ایسے حالات کا سامنا ھو تو پھر ہر وی سی کو اپنی جامعہ کے ماحول اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ فیصلے خود کرنے چاھیں۔مثال کے طور پر جب جامعات کو وزیٹنگ فکیلٹیز نے ھی چلانا ھے تو پھر ایسی فیکلٹی کو کسی حد تک اعتماد اور اونرشپ دینی پڑے گی۔ان کی سلیکشن کے لیے میرٹ،لیاقت اور ان کے تعلیمی شعور و معیار کو بھی دیکھنا ھو گا۔ہائرایجوکیشن کا تجربہ اور تعلیمی کمٹ منٹ بنیادی قدر ھونی چاھیے ، جس کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ھے۔سلیکشن کے لیے ایک سمسٹر کی بجائے کم از کم دو سال کا معاہدہ ھونا چاھیے،کارکردگی کو دیکھ کر توسیع کی جائے اور انھیں جامعہ میں مکمل احترام دیا جائے اور کلاسز کے ساتھ ساتھ اسے جامعہ کے دیگر معاملات میں بھی شامل کیا جائے تاکہ جامعہ کو ایک "ٹیم” کی صورت چلایا جائے۔اگر موجودہ سطحی قسم کی عارضی تعیناتیاں جاری رھیں تو پھر کوالٹی،ریسرچ اورینٹڈڈ اور skil based ایجوکیشن کا خواب کبھی پورا نہیں ھو گا۔اس لیے وزیٹنگ فیکلٹی کو اچھوت سمجھنے کا رویہ ترک کر کے اسے جامعہ کی مین سٹریم میں شامل کرنا نہایت ضروری ھے،کیونکہ لمحہ موجود میں یہی فیکلٹی وسیب کی جامعات کی back bone ھے۔اسے نظر انداز کرنا اخلاق اور اصولوں کے منافی رویہ ھے۔

Source: Desk report
ShareTweetSend
Next Post
معروف سرائیکی شاعر سید عارش گیلانی کے شعری مجموعہ “سِک” کی تقریبِ پذیرائی

معروف سرائیکی شاعر سید عارش گیلانی کے شعری مجموعہ “سِک” کی تقریبِ پذیرائی

Please login to join discussion

تازہ ترین

محمد کامران تھند

تحفظ ماحولیات کا پنجاب گرین سکول سرٹیفکیشن پروگرام .. تحریر: محمد کامران تھند

جنوری 4, 2026
کالم

تقدیر بے نظیر۔۔27 دسمبر .. تحریر ۔میاں شمشاد حسین سرائی

جنوری 4, 2026
ادبی تقریبات

خواجہ غلام فرید کانفرنس کے حوالے سے ایک کالم .. تحریر:پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین

جنوری 4, 2026
خبریں

ریسکیو 1122 لیہ نے مثالی کارکردگی,41,894 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس فراہم کرتے ہوئے 44,881 افراد کو سروسز فراہم کیں۔

جنوری 4, 2026

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • خبریں
    • علاقائی
    • قومی
    • بین الاقوامی
    • کھیل
    • تعلیم
    • ذراعت و لائیوسٹاک
  • کتب نورمحمد تھند
    • تاریخ
    • اولیا
  • محمد کامران تھند
    • جستجو زندگی
    • صحافت کا سفر
    • درپردہ گونج
  • کالم
    • ریاض احمد جھکڑ ۔۔۔ رائے عامہ
    • اظہر عباس بھٹی ۔۔۔ سندیسہ
    • عبدالطیف قمر
  • ویڈیوز
    • مقامی پیغام
    • وی لاگز
    • انٹرویو
  • کاروبار
    • پراپرٹی
  • ادبی تقریبات

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025