تعلیم کے ساتھ جتنا کھلواڑ پاکستان میں ھوا ھے شاید اتنا کھلواڑ تھرڈ ورڈ کی کسی اور ریاست میں نہ ھوا ھو۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں سب سے معتبر جامعہ”پنجاب یونیورسٹی لاھور”کو لمبے عرصے تک تسلیم کیا جاتا رہا۔شعبہ اردو میں 1955 تک صرف چار پی ڈی ایز نے اپنی اپنی ڈگریاں لیں،چوتھی ڈگری سرائیکی وسیب کے نامور ماہر لسانیات ڈاکٹر مہر عبدالحق کے حصے میں ائی۔اردو کے علاوہ دیگر شعبوں کی تحقیق کے میدان میں بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا صورت حال نہ تھی۔پے در پے مارشل لاوں نے بوجوہ شعور کی سطح کو بلند نہ ھونے دیا،ریاستی ادارے روبہ زوال ھوتے ھوتے شرمناک حد تک ا پہنچے ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر میں کچھ بہتر جامعات کا قیام عمل میں ایا اور انھوں نے نتائج بھی دیے وہاں بڑی حد تک کوالٹی ایجوکیشن کے بعض پہلو بھی سامنے آئے(مثال لمز لاھور)لیکن ہائر ایجوکیشن کا شعبہ تاجروں کے ہتھے چڑھ گیا اور ھمارا کلچر تباہ ھو کر رہ گیا۔تعلیم ایک خاص طرح کی لطافت مانگتی ھے جس کے لیے ماہرانہ کمٹ منٹ لازم ھوتی ھے لیکن کاروباری اذہان اس صلاحیت سے عاری ھوتے ھیں۔اس طرح بندر کے ہاتھ میں استرا دینے کے مصداق سارا تعلیمی ماحول درھم برھم ھو کر رہ گیا ھے۔پبلک سیکٹر کی جامعات کو سفارش،سیاسی مداخلت،قیادت کی نالائقی اور نااہلی نے مار مکایا ھے۔فنڈز کی کمی،بے جا فارمیلیٹیز،انتہا پسندی اور شدت پسندی نے پراگریسو تعلیمی ماحول کو کمپرومائز کر دیا ھے۔اس صورت حال کی بدترین مثال ھمیں جنوبی اور لوئر پنجاب(سرائیکی وسیب)میں نظر اتی ھے۔

یہاں پر اکثر جامعات کا قیام سیاسی ضرورتوں کے تحت عمل میں ایا ھے۔نیم خواندہ ممبران اسمبلی کی فرمائشوں پر بنائی گئی کئی جامعات کی ادھوری عمارتیں،ناکافی فنڈز،فیکلٹی کی حوصلہ شکن کمی،نااہل بیوروکریسی کی دھونس اور اس کے لامتناعی اختیارات نے جامعات کی قیادتوں کو ہراعتبار سے بے بس بنا رکھا ھے۔ایچ ای سی کی جکڑ بندیاں اس کے سوا ھیں۔موجودہ پنجاب کی حکومت نے صدق دل سے انقلابی اقدامات لینے کی کوشش کی اور پنجاب کی جامعات کے سربراہوں کی تعیناتی میں شفافیت کی سعی بھی کی مگر ایچ ای ڈی اور ایچ ای سی کی نزاکتوں اور ناروا قسموں کی جکڑ بندیوں سے جامعات کو ازاد نہ کرا سکی۔یہ ازادی بطور خاص سرائیکی وسیب کی نوزائیدہ جامعات کے لیے بہت ضروری تھی۔یہاں بھی وھی انتظامی فارمولے لگائے گئے جو اسٹبلشڈ جامعات پر لاگو ھوتے ھیں۔ھم اپنے گزشتہ کسی کالم میں لکھ ھیں کہ ان بڑے اداروں کی قیادت کے لیے سکالرز کا ھونا ضروری ھے یعنی ایسی قیادت جس کے پاس ایک ویژن اور ایک ول ھو،افسوس کہ سوائے ایک دو(جیسے جامعہ تھل کے سربراہ جناب ڈاکٹر سعید بزدار ھیں)کے کوئی وژنری وی سی کی مثال دکھائی نہیں دیتی۔اس وقت جامعات میں فنڈز کے فقدان کے ساتھ ساتھ فیکلٹی کی کمی بڑا گھمبیر ایشو ھے۔بطور خاص سرائیکی وسیب کی جامعات کو فیکلٹی کی کمی کا مسلہ درپیش ھے۔یہاں کی تمام جامعات "وزیٹنگ فیکلٹیز”پر چل رہی ھیں۔مستقل بنیادوں پر تعینات اساتذہ نہ ھونے کے برابر ھیں،مستقل اساتذہ کی بھرتی کے لیے اتنے جھنجٹ اور فارمیلیٹیز ھیں کہ بار بار اشتہار دیے جاتے ہیں مگر ٹیسٹ اور انٹرویوز کی نوبت اتی ھی نہیں۔امیدوار بے چارہ عکسی نقول اور بھرتی فیسیں جمع کرا کرا کر تہی دست ھو جاتا ھے مشتہر کی گئیں اسامیاں ختم کر دی جاتی ہیں،اس عمل میں جامعات کی قیادتوں کا قصور نہیں بلکہ ایچ ای ڈی اور ایچ ای سی کی پیدا کردہ رکاوٹیں ھیں جو کسی کام کو سموتھ ھونے ھی نہیں دیتیں۔جب ایسے حالات کا سامنا ھو تو پھر ہر وی سی کو اپنی جامعہ کے ماحول اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ فیصلے خود کرنے چاھیں۔مثال کے طور پر جب جامعات کو وزیٹنگ فکیلٹیز نے ھی چلانا ھے تو پھر ایسی فیکلٹی کو کسی حد تک اعتماد اور اونرشپ دینی پڑے گی۔ان کی سلیکشن کے لیے میرٹ،لیاقت اور ان کے تعلیمی شعور و معیار کو بھی دیکھنا ھو گا۔ہائرایجوکیشن کا تجربہ اور تعلیمی کمٹ منٹ بنیادی قدر ھونی چاھیے ، جس کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ھے۔سلیکشن کے لیے ایک سمسٹر کی بجائے کم از کم دو سال کا معاہدہ ھونا چاھیے،کارکردگی کو دیکھ کر توسیع کی جائے اور انھیں جامعہ میں مکمل احترام دیا جائے اور کلاسز کے ساتھ ساتھ اسے جامعہ کے دیگر معاملات میں بھی شامل کیا جائے تاکہ جامعہ کو ایک "ٹیم” کی صورت چلایا جائے۔اگر موجودہ سطحی قسم کی عارضی تعیناتیاں جاری رھیں تو پھر کوالٹی،ریسرچ اورینٹڈڈ اور skil based ایجوکیشن کا خواب کبھی پورا نہیں ھو گا۔اس لیے وزیٹنگ فیکلٹی کو اچھوت سمجھنے کا رویہ ترک کر کے اسے جامعہ کی مین سٹریم میں شامل کرنا نہایت ضروری ھے،کیونکہ لمحہ موجود میں یہی فیکلٹی وسیب کی جامعات کی back bone ھے۔اسے نظر انداز کرنا اخلاق اور اصولوں کے منافی رویہ ھے۔


