
دنیا اس وقت جن سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اور ماحولیاتی بگاڑ سرفہرست ہیں۔ یہ مسئلہ اب محض سائنسی یا حکومتی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی بقا کا بنیادی سوال بن چکا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ، قدرتی وسائل پر دباؤ اور ماحولیاتی کمزوری پہلے ہی موجود ہے، وہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید تباہ کن صورت اختیار کر چکے ہیں۔ایسے حالات میں یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ حکومتِ پنجاب کے محکمہ تحفظِ ماحولیات و کلائمیٹ چینج نے تعلیمی اداروں کو اس قومی ذمہ داری میں شریک کرنے کے لیے “دی پنجاب گرین اسکول سرٹیفکیشن پروگرام” کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نئی نسل اور اساتذہ کو موسمیاتی تبدیلیوں، ان سے پیدا ہونے والے نقصانات اور ماحول دوست طرزِ فکر سے آگاہ کرنا ہے، تاکہ تعلیمی ادارے عملی طور پر ماحولیاتی تحفظ کا مرکز بن سکیں۔

اسی سلسلے میں LUMS کے اشتراک سے لاہور کے پیکٹا (PECTAA) میں پانچ روزہ تربیتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں پنجاب کے دس مختلف اضلاع سے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ہر ضلع سے دو سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور ایک نجی تعلیمی ادارے کے نمائندے کو شامل کیا گیا۔ ضلع لیہ کی نمائندگی محکمہ تعلیم کی جانب سے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر منیبہ قیوم اور اقبال حسین نے کی، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے پنجاب اسلامیہ سیکنڈری اسکول لیہ کی نمائندگی مجھے (محمد کامران تھند) حاصل ہوئی۔ محکمہ تعلیم لیہ کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ افیسر لیہ ملک بلال ( فوکل پرسن دی پنجاب گرین سکول سرٹیفکیشن پروگرام لیہ ) کافی متحرک ثابت ہوئے اور ذمہ داری کو بھرپور انداز میں نبھایا ۔لیہ سے لاہور سفر کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات سجاد احمد کی مسلسل رابطہ ، رہنمائی اور تعاون قابلِ تحسین رہا۔ نامزدگی سے لے کر پیکٹا ہاسٹل میں قیام، استقبال اور پانچ روزہ ٹریننگ کے دوران ہر مرحلے پر ان کی عملی معاونت شرکاء کے لیے باعثِ حوصلہ رہی۔

ٹریننگ کے پہلے روز ڈپٹی سیکرٹری ماحولیات ڈاکٹر عنبرین نے پروگرام کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں LUMS کی ڈاکٹر رضیہ نے تربیتی سیشنز کا آغاز کیا، جن کی زیرِ نگرانی بلال اور ایمن بھی متحرک انداز میں شریک رہیں۔ تربیت کا ایک منفرد اور مؤثر پہلو Visual Thinking Routine (VTR) تھا، جس کے ذریعے ہمیں ماحولیاتی مسائل کو محض سننے کے بجائے دیکھنے، سوچنے اور حل تلاش کرنے کا شعور دیا گیا۔ دوران ٹریننگ سیشن پنجاب کے مختلف اضلاع سے آئے اساتذہ ، اے ای اوز، پرنسپلز کے ساتھ نئے تعلقات نے جنم لیا، سرائیکی ، پنجابی ، پوٹھوہاری اور فیصل آبادی رنگ و لہجہ نے ماحول کو ست رنگوں میں ڈھال دیا ۔
ان سیشنز کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں دریا سندھ، دریا راوی اور دریا جہلم میں آنے والے شدید سیلاب محض قدرتی آفات نہیں بلکہ انسانی غفلت، جنگلات کے خاتمے، آبی راستوں پر تجاوزات اور ماحولیاتی توازن کی بربادی کا نتیجہ ہیں۔ ان سیلابوں نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تباہ کی، بستیاں اجاڑ دیں اور انسانی جان و مال کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔اسی طرح شمالی علاقہ جات میں بادلوں کے پھٹنے (Cloud Burst) کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ پہاڑی علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات، درختوں کی کٹائی اور قدرتی راستوں کی بندش کس طرح چند لمحوں میں قیامت خیز تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ تمام مثالیں ہمیں واضح پیغام دیتی ہیں کہ ماحول سے کھلواڑ کا انجام ہمیشہ تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔


ٹریننگ کے دوران فضائی آلودگی، آبی آلودگی، سالڈ ویسٹ، صنعتی فضلے، گھریلو آلودگی، آگ اور دھوئیں کے نقصانات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ہمیں یہ بھی باور کرایا گیا کہ جنگلات کا بے دریغ خاتمہ نہ صرف سیلابوں کی شدت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ گرمی کی شدت بڑھنے، بارشوں کے نظام میں بگاڑ اور جنگلی حیات کے خاتمے کا باعث بھی بنتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ، پانی کی شدید قلت اور خشک سالی جیسے خطرناک مسائل شامل ہیں۔ پاکستان کے کئی زرعی علاقے پانی کی کمی کے باعث بنجر ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فصلوں میں زہروں اور کیمیائی کھادوں کے بے جا استعمال نے زمین کی قدرتی زرخیزی کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں غذائی قلت کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔بینالے لاہور کی ڈاکٹر قدسیہ نے مختلف مواقع پر پنجاب کے علاقائی ماحولیاتی مسائل اور عملی تجربات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

تیسرے روز ڈاکٹر منصور صاحب کی شمولیت سے گروپ ٹرینرز کے ذریعے عملی اسائنمنٹس دی گئیں، جن کا مقصد مشاہدے، تجزیے اور حل کی تلاش کو فروغ دینا تھا۔آخری روز ڈائریکٹر ماحولیات لاہور، عاصم الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ماحول کا تحفظ صرف سرکاری اداروں، اساتذہ یا طلبہ تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ہر ضلع سے تین ماسٹر ٹرینرز تیار کیے جا رہے ہیں، جو آگے چل کر اسکولوں، طلبہ اور عام شہریوں میں ماحولیاتی آگاہی عام کریں گے۔
اگر ہم بطور قوم اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کر لیں، درخت لگانے، پانی بچانے، آلودگی کم کرنے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو اپنا شعار بنا لیں، تو یقیناً ہم آنے والی نسلوں کے لیے صاف پانی، صاف فضا، صحت مند خوراک اور ایک محفوظ و خوبصورت ماحول چھوڑ سکتے ہیں۔ یہی پائیدار ترقی اور حقیقی قومی کامیابی ہے۔

