ضلع لیہ میں محکمہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی کے سدباب کے لیے کی جانے والی کارروائیاں محض سرکاری ہینڈ آؤٹس اور افسران کی ‘گڈ بک’ میں شامل ہونے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ شہریوں نے لیہ میڈیا ہاؤس سے گفتگو کرتے ہوئے محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق، محکمہ تحفظ ماحولیات ہر سال بارش کے سیزن سے قبل بھٹہ مالکان کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرکے ایک طے شدہ ڈرامہ رچاتا ہے۔ جس میں چند سو اینٹوں کو گرا کر یا ٹریکٹر سے توڑ کر تصاویر بنائی جاتی ہیں اور خبریں جاری کی جاتی ہیں کہ "9 بھٹے مسمار کر دیے گئے”، جبکہ حقیقت میں ان بھٹوں کو مکمل طور پر مسمار کرنے کے بجائے صرف چند اینٹوں کا نقصان پہنچایا جاتا ہے اور بھٹے بدستور چالو حالت میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی "کاغذی کارروائیوں” سے ماحول کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں مل رہی۔شہریوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بھٹوں کو ماحول دوست ‘زگ زیگ’ (Zig-Zag) ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے احکامات عرصہ دراز سے موجود ہیں، لیکن لیہ میں محکمہ تحفظ ماحولیات ان احکامات پر عملدرآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق: لیہ میں بھٹوں کی کل تعداد چند سو ہے، جنہیں جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ محکمہ تحفظ ماحولیات کی عدم دلچسپی اور مبینہ ملی بھگت کے باعث زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
* آلودگی پھیلانے والے یہ بھٹے اب بھی کھلے عام زہریلا دھواں خارج کر رہے ہیں، جس سے شہری، بالخصوص بچے اور بزرگ، سانس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لیہ میں جاری اس ڈرامائی کارروائی کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف انکوائری کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام بھٹہ مالکان کو قانون کے دائرے میں لاتے ہوئے انہیں فوری طور پر زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے تاکہ ضلع لیہ کو زہریلے دھوئیں سے نجات دلائی جا سکے۔


