• About us
  • Contact Us
  • Home
  • Privacy Policy
Layyah Media House
ہفتہ ، 10 جنوری ، 2026
  • صفحہ اول
  • خبریں
    • علاقائی
    • قومی
    • بین الاقوامی
    • کھیل
    • تعلیم
    • ذراعت و لائیوسٹاک
  • کتب نورمحمد تھند
    • تاریخ
    • اولیا
  • محمد کامران تھند
    • جستجو زندگی
    • صحافت کا سفر
    • درپردہ گونج
  • کالم
    • ریاض احمد جھکڑ ۔۔۔ رائے عامہ
    • اظہر عباس بھٹی ۔۔۔ سندیسہ
    • عبدالطیف قمر
  • ویڈیوز
    • مقامی پیغام
    • وی لاگز
    • انٹرویو
  • کاروبار
    • پراپرٹی
  • ادبی تقریبات
No Result
View All Result
Layyah Media House



پاکستان نے جولائی 2025 میں 2 لاکھ 91 ہزار 902 ٹن چاول برآمد کیے

Business News

Muhammad Kamran Thind by Muhammad Kamran Thind
اگست 26, 2025
in خبریں, کاروبار
A A
0
پاکستان نے جولائی 2025 میں 2 لاکھ 91 ہزار 902 ٹن چاول برآمد کیے

Pakistani Rice Q1

اسلام آباد: پاکستان کے چاول کے شعبے نے نئے مالی سال کا آغاز ملی جلی صورتحال کے ساتھ کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں مجموعی برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم باسمتی چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے برآمدکنندگان اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جولائی 2025 میں 2 لاکھ 91 ہزار 902 ٹن چاول برآمد کیے جو گزشتہ سال کے اسی ماہ میں 2 لاکھ 70 ہزار 2 ٹن کے مقابلے میں تقریباً 21 ہزار 900 ٹن زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ نان باسمتی چاول کی برآمدات کی بدولت ممکن ہوا جو 60 ہزار 930 ٹن بڑھ کر 2 لاکھ 39 ہزار 562 ٹن تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب، باسمتی چاول کی برآمدات میں 43 فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ سال 92 ہزار 541 ٹن سے گھٹ کر صرف 52 ہزار 339 ٹن رہ گئیں۔

ماہرین کے مطابق یورپ اور برطانیہ میں براؤن رائس کی مانگ کم ہونے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں سفید اور پربوائلڈ باسمتی کی خریداری بھی گھٹ گئی ہے، خصوصاً عمان اور سعودی عرب جیسے بڑے خریدار ممالک میں۔ اس کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں بھارتی چاول کی سستی دستیابی ہے۔ بھارتی روپے کی 2.5 فیصد کمی نے ان کی برآمدات کو مزید مسابقتی بنا دیا ہے جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ مقامی برآمدکنندگان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

برآمدکنندگان نے شکایت کی ہے کہ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن اور نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی غیر ضروری پابندیوں اور تاخیری معائنہ پالیسیوں کے باعث شپمنٹس میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس وجہ سے کئی آرڈرز منسوخ ہو گئے اور غیر ملکی خریداروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر پالیسی اصلاحات اور باسمتی چاول کی مؤثر مارکیٹنگ نہ کی گئی تو پاکستان اپنی ممتاز پوزیشن کھو سکتا ہے۔ برآمدکنندگان کے مطابق پرانے خریدار بھی سستے متبادل کی طرف جا رہے ہیں جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

Source: Muhammad Kamran Thind
ShareTweetSend
Next Post
بجلی صارفین کے لیے ریلیف: حکومت نے لیوی تقسیم کا طریقہ کار منظور کر لیا

بجلی صارفین کے لیے ریلیف: حکومت نے لیوی تقسیم کا طریقہ کار منظور کر لیا

Please login to join discussion

تازہ ترین

محمد کامران تھند

تحفظ ماحولیات کا پنجاب گرین سکول سرٹیفکیشن پروگرام .. تحریر: محمد کامران تھند

جنوری 4, 2026
کالم

تقدیر بے نظیر۔۔27 دسمبر .. تحریر ۔میاں شمشاد حسین سرائی

جنوری 4, 2026
ادبی تقریبات

خواجہ غلام فرید کانفرنس کے حوالے سے ایک کالم .. تحریر:پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین

جنوری 4, 2026
خبریں

ریسکیو 1122 لیہ نے مثالی کارکردگی,41,894 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس فراہم کرتے ہوئے 44,881 افراد کو سروسز فراہم کیں۔

جنوری 4, 2026

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • خبریں
    • علاقائی
    • قومی
    • بین الاقوامی
    • کھیل
    • تعلیم
    • ذراعت و لائیوسٹاک
  • کتب نورمحمد تھند
    • تاریخ
    • اولیا
  • محمد کامران تھند
    • جستجو زندگی
    • صحافت کا سفر
    • درپردہ گونج
  • کالم
    • ریاض احمد جھکڑ ۔۔۔ رائے عامہ
    • اظہر عباس بھٹی ۔۔۔ سندیسہ
    • عبدالطیف قمر
  • ویڈیوز
    • مقامی پیغام
    • وی لاگز
    • انٹرویو
  • کاروبار
    • پراپرٹی
  • ادبی تقریبات

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025